Posts

Kal Chodhwien Ki Raat Thi - Ibn e Insha

غزل ابن انشاء ؔ کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی شب پوچھا کیے ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا اس شہر میں کس سے ملیں، ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص ہے دیوانہ تیرا کوچی کو تےرے چھوڈ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا ہم اور رسمِ بندگی،آشفتگی،اوفتگی احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسن بے پروا تیرا دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکے ٹک گیے الطاف کی بارش تیری، اکرام کا ردیا تیرا اے بے دریغ و بے ایماں! ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟ ہم کو تیری وحشت سہی، ہم کو سہی سوادا تیرا ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگزر رستہ کبھی روکا تیرا؟ دامن کبھی تھاما تیرا؟ ہاں ہاں تےری صورت حسیں! لیکن تو ایسا بھی نہیں اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا تیرا بے درد سننی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، انشاء تیرا

Mein Talkhi e Hayat se Ghabra ke - Saghar Siddique

غزل (ساغر صدیقی) میں تلخیء حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلکے ہوئے تھے جام، پریشان تھی زلف یار کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا میں آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا دنیائے حادثات ہے اک درد ناک گیت دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجئے حضور ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا! ​