Posts

Aey Jazba e Dil - Behzad Lakhnawi

غزل (بہزاد لکھنوی) اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے​ منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے​ ​ کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہے​ مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے​ ​ اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنا​ اس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے​ ​ اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں​ اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تم پہ مرا دل آ جائے​ ​ اے راہبرِ کامل! چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہے​ اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے​ ​ اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہے​ میں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے​ ​ ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا​ اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے​ ​ اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم، ہونے دے ستم بالائے ستم​ میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے​ ​ اے برقِ تجلّی کیا تُو نے مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے؟​ میں طُور نہیں جو جل جاؤں، جو چاہے مقابل آ جائے​ ​ اے دل کی لگی! چل یونھی سہی، چلتا تو ہوں ان کی محفل میں​ اس وقت ...

Mera Ishaq Ho - Anonymous

نظم (نامعلوم) میرا عشق ہو تیری ذات ہو پھر حُسْن عشق کی بات ہو کبھی میں ملوں ، کبھی تو ملے کبھی ہم ملیں ملاقات ہو کبھی تو ہو چُپ ، کبھی میں ہوں چُپ کبھی دونوں ہم چُپ چاپ ہوں کبھی گفتگو ، کبھی تذکرے کوئی ذکر ہو ، کوئی بات ہو کبھی حجر ہو تو دن کو ہو کبھی وصل ہو تو وہ رات ہو کبھی میں تیرا کبھی تو میرا کبھی اک دوجے کے ہم رہیں کبھی ساتھ میں ، کبھی ساتھ تو کبھی اک دوجے کے ساتھ ہو کبھی صعوبتیں کبھی رنجشیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی الفتیں کبھی نفرتیں کبھی جیت ہو کبھی ہار ہو کبھی پھول ہو کبھی دھول ہو کبھی یاد ہو کبھی بھول ہو نا نشیب ہوں نا " اداس " ہوں صرف تیرا عشق ہو میری ذات ہو ​

Raaz Har Rang Mein Ruswa Hoga - Ahmed Nadeem Qasmi

غزل (احمد ندیم قاسمی) لب خاموش سے افشا ہوگا راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا ابر گلزار پہ برسا ہوگا تم نہیں تھے تو سر بام خیال یاد کا کوئی ستارہ ہوگا کس توقع پہ کسی کو دیکھیں کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا زینت حلقۂ آغوش بنو دور بیٹھو گے تو چرچا ہوگا جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا کس قدر کرب سے چٹکی ہے کلی شاخ سے گل کوئی ٹوٹا ہوگا عمر بھر روئے فقط اس دن رات بھیگی تو اجالا ہوگا ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا ​

Kaho woh Chand kesa tha - Fakhira batool

مکالماتی نظم (فاخرہ بتولؔ) کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟ جِدھر سب کچھ لُٹا آئے جِدھر آنکھیں گنوا آئے کہا ، سیلاب جیسا تھا، بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟ کبھی چُھو کر اسے دیکھا تو تُم نے کیا بھلا پایا کہا ، بس آگ جیسا تھا ، اسے چُھو کر تو اپنی رُوح یہ تن من جلا آئے کہو ، وہ وصل کیسا تھا ؟ تمہیں جب چُھو لیا اُس نے تو کیا احساس جاگا تھا ؟ کہا ، اِک راستے جیسا ،جدھر سے بس گزرنا تھا ، مکاں لیکن بنا آئے کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟ فلک سے جو اُتر آیا ! تمھاری آنکھ میں بسنے کہا ، وہ خواب جیسا تھا ، نہیں تعبیر تھی اسکی ، اسے اِک شب سُلا آئے کہو ، وہ عشق کیسا تھا ؟ بِنا سوچے بِنا سمجھے ، بِنا پرکھے کیا تُم نے کہا ، تتلی کے رنگ جیسا ، بہت کچا انوکھا سا ، جبھی اس کو بُھلا آئے کہو ، وہ نام کیسا تھا ؟ جِسے صحراؤں اور چنچل ، ہواؤں پر لکھا تُم نے کہا ، بس موسموں جیسا ، ناجانے کس طرح کس پل کسی رو میں مِٹا آئے ​

Hamesha dair kar deta hon mein - Muneer Niazi

نظم (منیؔر نیازی) ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ​

Meri Zindagi to Firaq hai - Peer Naseer ud din Naseer

غزل (پیر نصیر الدین نصیرؔ) مری زندگی تو فراق ہےوہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں،رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح ، وہ کہیں سہی ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی ، تو ہمیں سہی غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں، یہ قرار کیا غم زندگی بھی ہے زندگی، جو نہیں خوشی تو نہیں سہی سر طور ہو، سر حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں ، وہ کہیں ملیں ،وہ کبھی سہی ، وہ کہیں سہی نہ ہو ، ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انہیں کا تھا، میں انہیں کا ہوں، وہ مرے نہیں تو نہیں سہی مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے ، مری آرزو کا بھرم رہے تری انجمن میں اگر نہیں، تری انجمن کے قریں سہی ترے واسطے ہے یہ وقف سر، رہے تا ابد ترا سنگِ در کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو، مری ہی جبیں سہی مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور ، مجھ سے قریب ہے مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں ، تو نہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے ، اسے حشر پر نہ اٹھائیے جو کریں گے آپ ستم وہاں ، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم...

Woh Ayeny Ko Bhi Heerat Mein - Anonymous

غزل   وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے عجیب شخص ہے، ملتا ہے، کچھ نہیں کہتا جواب سب کو مگر حنب حال دیتا ہے براۓ نام بھی جس کو وفا نہیں آتی وہ سب کو اپنی وفا کی مثال دیتا ہے جنون عشف کے ہوتے ہیں، مختلف آداب کسی کو ہجر، کسی کو وصال دیتا ہے تمام عمر بھی، جن کا جواب مل نہ سکے وہ امتحان میں ایسے سوال دیتا ہے یہ وہ ہنر ہے، جو ہر شخص کو نہیں آتا وہ آنسوؤں کو تبسم میں ڈھال دیتا ہے تعلق اپنا ہے اعجاز اس قبیلے سے بھلائی کر کے جو دریا میں ڈال دیتا ہے