Posts

Showing posts from April, 2017

Aey Jazba e Dil - Behzad Lakhnawi

غزل (بہزاد لکھنوی) اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے​ منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے​ ​ کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہے​ مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے​ ​ اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنا​ اس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے​ ​ اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں​ اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تم پہ مرا دل آ جائے​ ​ اے راہبرِ کامل! چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہے​ اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے​ ​ اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہے​ میں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے​ ​ ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا​ اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے​ ​ اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم، ہونے دے ستم بالائے ستم​ میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے​ ​ اے برقِ تجلّی کیا تُو نے مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے؟​ میں طُور نہیں جو جل جاؤں، جو چاہے مقابل آ جائے​ ​ اے دل کی لگی! چل یونھی سہی، چلتا تو ہوں ان کی محفل میں​ اس وقت ...

Mera Ishaq Ho - Anonymous

نظم (نامعلوم) میرا عشق ہو تیری ذات ہو پھر حُسْن عشق کی بات ہو کبھی میں ملوں ، کبھی تو ملے کبھی ہم ملیں ملاقات ہو کبھی تو ہو چُپ ، کبھی میں ہوں چُپ کبھی دونوں ہم چُپ چاپ ہوں کبھی گفتگو ، کبھی تذکرے کوئی ذکر ہو ، کوئی بات ہو کبھی حجر ہو تو دن کو ہو کبھی وصل ہو تو وہ رات ہو کبھی میں تیرا کبھی تو میرا کبھی اک دوجے کے ہم رہیں کبھی ساتھ میں ، کبھی ساتھ تو کبھی اک دوجے کے ساتھ ہو کبھی صعوبتیں کبھی رنجشیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی الفتیں کبھی نفرتیں کبھی جیت ہو کبھی ہار ہو کبھی پھول ہو کبھی دھول ہو کبھی یاد ہو کبھی بھول ہو نا نشیب ہوں نا " اداس " ہوں صرف تیرا عشق ہو میری ذات ہو ​

Raaz Har Rang Mein Ruswa Hoga - Ahmed Nadeem Qasmi

غزل (احمد ندیم قاسمی) لب خاموش سے افشا ہوگا راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا ابر گلزار پہ برسا ہوگا تم نہیں تھے تو سر بام خیال یاد کا کوئی ستارہ ہوگا کس توقع پہ کسی کو دیکھیں کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا زینت حلقۂ آغوش بنو دور بیٹھو گے تو چرچا ہوگا جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا کس قدر کرب سے چٹکی ہے کلی شاخ سے گل کوئی ٹوٹا ہوگا عمر بھر روئے فقط اس دن رات بھیگی تو اجالا ہوگا ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا ​

Kaho woh Chand kesa tha - Fakhira batool

مکالماتی نظم (فاخرہ بتولؔ) کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟ جِدھر سب کچھ لُٹا آئے جِدھر آنکھیں گنوا آئے کہا ، سیلاب جیسا تھا، بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟ کبھی چُھو کر اسے دیکھا تو تُم نے کیا بھلا پایا کہا ، بس آگ جیسا تھا ، اسے چُھو کر تو اپنی رُوح یہ تن من جلا آئے کہو ، وہ وصل کیسا تھا ؟ تمہیں جب چُھو لیا اُس نے تو کیا احساس جاگا تھا ؟ کہا ، اِک راستے جیسا ،جدھر سے بس گزرنا تھا ، مکاں لیکن بنا آئے کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟ فلک سے جو اُتر آیا ! تمھاری آنکھ میں بسنے کہا ، وہ خواب جیسا تھا ، نہیں تعبیر تھی اسکی ، اسے اِک شب سُلا آئے کہو ، وہ عشق کیسا تھا ؟ بِنا سوچے بِنا سمجھے ، بِنا پرکھے کیا تُم نے کہا ، تتلی کے رنگ جیسا ، بہت کچا انوکھا سا ، جبھی اس کو بُھلا آئے کہو ، وہ نام کیسا تھا ؟ جِسے صحراؤں اور چنچل ، ہواؤں پر لکھا تُم نے کہا ، بس موسموں جیسا ، ناجانے کس طرح کس پل کسی رو میں مِٹا آئے ​