Posts

Showing posts from January, 2017

Hamesha dair kar deta hon mein - Muneer Niazi

نظم (منیؔر نیازی) ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ​

Meri Zindagi to Firaq hai - Peer Naseer ud din Naseer

غزل (پیر نصیر الدین نصیرؔ) مری زندگی تو فراق ہےوہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں،رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح ، وہ کہیں سہی ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی ، تو ہمیں سہی غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں، یہ قرار کیا غم زندگی بھی ہے زندگی، جو نہیں خوشی تو نہیں سہی سر طور ہو، سر حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں ، وہ کہیں ملیں ،وہ کبھی سہی ، وہ کہیں سہی نہ ہو ، ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انہیں کا تھا، میں انہیں کا ہوں، وہ مرے نہیں تو نہیں سہی مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے ، مری آرزو کا بھرم رہے تری انجمن میں اگر نہیں، تری انجمن کے قریں سہی ترے واسطے ہے یہ وقف سر، رہے تا ابد ترا سنگِ در کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو، مری ہی جبیں سہی مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور ، مجھ سے قریب ہے مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں ، تو نہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے ، اسے حشر پر نہ اٹھائیے جو کریں گے آپ ستم وہاں ، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم...

Woh Ayeny Ko Bhi Heerat Mein - Anonymous

غزل   وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے عجیب شخص ہے، ملتا ہے، کچھ نہیں کہتا جواب سب کو مگر حنب حال دیتا ہے براۓ نام بھی جس کو وفا نہیں آتی وہ سب کو اپنی وفا کی مثال دیتا ہے جنون عشف کے ہوتے ہیں، مختلف آداب کسی کو ہجر، کسی کو وصال دیتا ہے تمام عمر بھی، جن کا جواب مل نہ سکے وہ امتحان میں ایسے سوال دیتا ہے یہ وہ ہنر ہے، جو ہر شخص کو نہیں آتا وہ آنسوؤں کو تبسم میں ڈھال دیتا ہے تعلق اپنا ہے اعجاز اس قبیلے سے بھلائی کر کے جو دریا میں ڈال دیتا ہے

Kal Chodhwien Ki Raat Thi - Ibn e Insha

غزل ابن انشاء ؔ کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی شب پوچھا کیے ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا اس شہر میں کس سے ملیں، ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص ہے دیوانہ تیرا کوچی کو تےرے چھوڈ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا ہم اور رسمِ بندگی،آشفتگی،اوفتگی احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسن بے پروا تیرا دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکے ٹک گیے الطاف کی بارش تیری، اکرام کا ردیا تیرا اے بے دریغ و بے ایماں! ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟ ہم کو تیری وحشت سہی، ہم کو سہی سوادا تیرا ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگزر رستہ کبھی روکا تیرا؟ دامن کبھی تھاما تیرا؟ ہاں ہاں تےری صورت حسیں! لیکن تو ایسا بھی نہیں اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا تیرا بے درد سننی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، انشاء تیرا

Mein Talkhi e Hayat se Ghabra ke - Saghar Siddique

غزل (ساغر صدیقی) میں تلخیء حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلکے ہوئے تھے جام، پریشان تھی زلف یار کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا میں آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا دنیائے حادثات ہے اک درد ناک گیت دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجئے حضور ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا! ​